کاروار:19؍اپریل(ایس اؤ نیوز) اترکنڑا ضلع میں کرونا وائرس متاثرین کے معاملات کم ہیں ، مگر پڑوسی اضلاع میں اور ریاست بھر میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے معاملات میں اضافے کو دیکھتے ہوئے ضلع میں داخل ہونے والوں سے وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔ اس بنا پر باہری اضلاع اوردوسری ریاستوں سے ضلع میں داخل ہونے والوں پر کڑی نگاہ رکھے جانے کی ہدایات دی گئی ہے۔ اس بات کی اطلاع اترکنڑا ضلع ڈپٹی کمشنر اور ضلع وبائی آفت نگراں کار بورڈ کے صدر ڈاکٹر ہریش کمار نے دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر لاک ڈاون کے چلتے کوئی باہر کی سواری ضلع میں داخل ہوتی ہے اُس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔
ڈی سی نے بتایا کہ ضلع میں داخل ہونے والے اور باہر جانے والوں کے متعلق واضح ہدایات جاری کرنے کے بعد بھی ضلع کے چند تعلقہ جات میں ان ہدایات پر ٹھیک طرح سے عمل نہ کئے جانے پر انہوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس تعلق سے مزید سخت اقدامات اٹھایا جائے گا۔
سمندری راستوں سے ، جنگل کے پید ل راستوں سے اور ریلوے لائن کے سہارے پیدل چلتے ہوئے ضلع میں داخل ہونے والے راستوں کی نشاندہی کرتے ہوئے محکمہ بندرگاہ ، محکمہ ماہی گیری ، محکمہ جنگلات، اور محکمہ ریلوے کے افسران سے اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے اس طرح داخل ہونے والوں کی نگرانی کرنے کے لئے ضلع ڈی سی نے ضلع کے تمام تعلقہ جات کے تحصیلداروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ اس کے علاوہ بھی مختلف راہیں ہوسکتی ہیں جن پر غور کرتے ہوئے اقدامات اٹھائیں جائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع کے سبھی اسسٹنٹ کمشنرس سمیت ڈپٹی ایس پی ان معاملات کی نگرانی کریں گے۔انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر اس کارروائی میں کوئی بھی افسریا عملہ غفلت برتے گا یا ضلع میں کسی کو آنے سے روکنے میں ناکام رہے گا تو اُن کے خلاف ہیلتھ ایمرجنسی قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔
آفسران کو ڈپٹی کمشنر نے جو ہدایات جاری کی ہیں، وہ اس طرح ہیں: ضلع کی سرحد پر واقع جانچ تھانوں پر پولس عملےکے ساتھ محکمہ تحصیل اور دیگر محکمہ جات کے افسران کو تعینات کیا جائے
چک پوسٹ کے علاوہ ضلع میں داخل ہونے والے دیگر راستوں کی نشان دہی کرتے ہوئے اس پر روک لگائی جائے
مال سپلائی کرنے والی سواریوں میں مسافروں کو سفر کرنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے، اگر کسی سواری پر مسافرپایا جاتا ہے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
بیرونی اضلاع اور دیگر ریاستوں سے ضلع میں آنے والوں کی دستاویزات کی تفتیش کی جائے اور اگر دستاویزات صحیح پائے جاتے ہیں تو ہر ایک پر کوارنٹائن کا مہر لگا کر قریب کے بخار جانچ مرکز میں اس کی جانچ کروائی جائے۔
جانچ کے بعد جانچ کردہ ڈاکٹر کی طرف سے دستاویزات پر تصدیق کردہ دستخط ثبت کی جائے۔ اتنی کارروائی ہونے کے بعد ہی انہیں آگے جانے دیا جائے۔
سرحدی چک پوسٹ پر ہر سواری کی اور سوار پر موجود فرد کی تفصیلات درج کی جائے اور ہرروز شام 30-05بجے اس کی رپورٹ ڈی سی دفتر کو روانہ کی جائے۔ جو بھی باہری اضلاع سے سفر کرتا ہوا ضلع میں داخل ہوتا ہے تو انہیں لازما ً14دنوں تک کوارنٹائن میں رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔